Skip to content

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

رَبَّنَاو لَكَ الْحَمْدُ آہستہ پڑھیں یا با ٓواز بلند ؟
ایک جماعت کے چند لوگوں کے بیچ نماز میں امام و مقتدی کا دعاء قومہ یعنی رَبَّنَاو لَكَ الْحَمْدُ بالجہر پڑھنے کا رواج پڑ گیا ہے۔قرآنی آیات، احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ رَبَّنَاو لَكَ الْحَمْدُ آہستہ پڑھنا چاہئے ۔تفصیل درج ذیل ہے:

۱۔ ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (الاعراف۔ ۵۵) ’’اپنے رب سے دعاء کیا کرو گڑ گڑا کرکے اور چپکے چپکے بھی، واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نا پسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں۔ ‘‘

۲۔ وَاذْکُر رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاً وَخِیْفَۃً وَدُونَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلاَ تَکُن مِّنَ الْغَافِلِیْن (الاعراف۔۲۰۵) ’’اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کروعاجزی اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ‘‘

مذکورہ دونوں آیتوں میں اللہ رب العالمین نے دعاء کرنے کا یہ طریقہ بتلایا ہے کہ دعائیں آہستہ اور خفیہ طریقے پر کی جائیں۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے آہستہ دعاء کرنا مراد ہے۔(تفسیر طبری) إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْن ’’ اعتداء‘‘ (حد سے آگے بڑھنا) کی تفسیر دعاء میں آواز بلند کرنے سے بھی کی گئی ہے (تفسیر ابن ابی حاتم، امام ابن تیمیہؒ ) اور’ فی نفسک ‘ یعنی دل میں دعاء کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

۳۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک سفر میں آپ کے ساتھ تھے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے دعاء میں آواز بلند کرنی شروع کر دی اس پرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اے لوگو! اپنے آپ پر رحم کرو کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ اسے پکار رہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے، بے شک جسے تم پکار رہے ہو وہ تم سے تمہارے اونٹ کی گردن سے زیادہ قریب ہے۔(صحیح بخاری۔۲۹۹۲)

معلوم ہوا کہ’’ ربنا و لک الحمد‘‘ ہو یا کوئی اور دعاء قرآن و حدیث کی رو سے اسے آہستہ ہی پڑھا جائے گا۔ نیز بعض احادیث میں اللہ کے نبی ﷺ نے امام کے پیچھے بآواز بلندپڑھنے سے منع فرماتے ہوئے اسے منازعت قرار دیا ہے ( مسلم کتاب الصلاۃ)


بخاری شریف کی حدیث جس کو دلیل بنا کر چند لوگوں کے بیچ رَبَّنَاو لَكَ الْحَمْدُ بالجہر پڑھنے کا رواج پڑ گیا ہے وہ درج ذیل ہے : ترجمہ : رفاعہ بن رافع زرقی سے روایت ہے : انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ ایک شخص نے پیچھے سے کہا ’’ر بنا لک الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکا فیہ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ ان کلمات کو لکھنے میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تھے‘‘۔ ( اس سے ان کلمات کی فضیلت ثابت ہوئی ) ۔(صحیح بخاری۔ ۷۹۹)
اس حدیث کا ایک پش منظر ہے جویہاں مکمل مذکور نہیں ہے بلکہ اس میں اختصار ہے جس سے اس واقعہ کی پوری کیفیت اور اس کا پورا پس منظر ہمارے سامنے نہیں آتا ۔ آئیے دیگر روایات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ مذکورہ واقعہ کہ مکمل روداد کیا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی روایت میں اسکی صراحت مذکور ہے۔

ترجمہ: ’’رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ کے پیچھے صلاۃپڑھی ، مجھے چھینک آئی تو میں نے

’’الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی‘‘ کہا جب رسول اللہﷺ صلاۃپڑھ کرپلٹے توآپ نے پوچھا:صلاۃ میں کون بول رہا تھا؟توکسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ صلاۃ میں کون بول رہا تھا؟ اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا،پھرآپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ صلاۃ میں کون بول رہا تھا؟رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول ! آپ نے پوچھا:تم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا:یوں کہاتھا ’’الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی‘‘ تونبی اکرمﷺ نے فرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے ‘‘۔ (ترمذی۔۴۰۴، نسائی۔۹۳۲،۹۳۳)
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے :

ترجمہ: ’’ حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور صف میں شریک ہوا جبکہ اس کی سانس چڑھی ہوئی تھی ، اس نے کہا : الحمد اللہ حمد کثیر طیبا مبارکا فیہ ’’ تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے ،حمد بہت زیادہ ‘پاک اور برکت والی حمد ۔ ‘‘ جب رسو ل اللہ ﷺ نےنماز پوری کرلی تو آپ نے پوچھا ’’تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون تھا ؟‘‘ سب لوگوں نے ہونٹ بند رکھے ۔ آپ نے دوبارہ پوچھا ’’تم میں یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس نے کوئی ممنوع بات نہیں کہی ۔‘‘ تب ایک شخص نے کہا : میں اس حالت میں آیا کہ میری سانس پھولی ہوئی تھی تو میں نے اس عالم میں یہ کلمات کہے ۔ آپ نے فرمایا : میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا جو (اس میں )ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون اسے اوپر لے جاتا ہے‘‘ ۔ (صحیح مسلم۔ ۱۳۵۷ ۔ شاملہ)

مسند احمد میں ہے:

ترجمہ: ’’ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا ” الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا۔ میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے۔ پھر فرمایا :جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے‘‘ (مسند احمد۔۱۳۶۴۵)

اب جو شخص بھی اس پورے واقعہ پر غور کرے گا اسے معلوم ہوگا کہ صحابی رضی اللہ عنہ مذکور کا باآواز بلند دعاء قومہ پڑھنا ایک انفرادی اور اضطراری عمل تھا ۔ وہ دوڑتے ہوئے صف میں داخل ہوئے تھے جس کے سبب وہ ہانپنے لگے اور پھر چھینک آ گئی اور اسی چھینک کی آواز کے ساتھ ساتھ دعاء قومہ کی آواز بھی بلند ہوگئی ۔

تمام روایتوں کو سامنے رکھنے کے بعد مذکورہ واقعہ کی جو مکمل روداد ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کے لئے مسجد آئے اور جس وقت وہ پہنچے اس وقت لوگ رکوع کی حالت میں تھے۔رکعت چھوٹنے کے خوف سے دوڑ پڑے اوررکوع میں شامل ہوئے۔ دوڑنے کی وجہ سے سانس پھول رہی تھی ۔جوں ہی رکوع سے سر اٹھایا چھینک آگئی اور چھینک کی آواز کے ساتھ دعاء قومہ کی آواز بھی بلند ہو گئی۔ چونکہ عذر معقول تھا اسلئے رسول ﷺ نے آواز بلند ہونے پر گرفت نہیں کی۔ آپ کے سوال کرنے کا مقصد بھی آواز کا بلند ہونے پر گرفت کرنا نہیں تھا بلکہ اس کلمے کی فضیلت بیان کرنا تھا۔البتہ جو چیز آواز بلند ہونے کا سبب بنی تھی یعنی نماز کے لئے دوڑ کر آنا اور سانس پھولنے کا شکار ہونا تو اس کے لئے منع فرمایا۔یعنی تم میں سے جو بھی نماز کے لئے آئے سکون و اطمنان سے آ ئےاور جتنی نماز ملے اسے پڑھ لے اور جوچھوٹ جائے اسے پورا کرے۔

حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک ہی رکعت میں آواز بلند ہوئی تھی۔لہٰذا اس واقعہ کو بنیاد بنا کر قومہ کی دعاء بآوز بلند پڑھنے کی دلیل نہیں بنا یا جا سکتا۔ عہد نبوی میں دعاء قومہ بآواز بلند پڑھنے کا رواج نہیں تھا اور نہ ہی اس واقعے کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے بآواز بلند پڑھنا شروع کر دیا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو روایت کے ذریعے ہم تک یہ بات پہنچتی جس طرح یہ ایک واقعہ حدیث میں نقل ہو گیا۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک رکعت میں جہر سے پڑھا تو نقل ہو گیا اور سارے صحابہ رضی اللہ عنہم پڑھتے تو نقل نہیں ہوتا ؟ جیسے آمین بالجہر کا واقعہ۔ معلوم ہوا کہ مذکورہ حدیث کا صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہ مفہوم نہیں سمجھا جو آج چند افرادسمجھ رہے ہیں۔لہٰذا دعاء قومہ یعنی رَبَّنَاو لَكَ الْحَمْدُ آہستہ ہی پڑھنا چاہیے۔ واللہ اعلم