رؤيت ہلال پر علمی بحث
مختلف ممالك ميں رمضان المبارك كےآغاز میں اختلاف كے غالب اسباب چاند كے مطلع كا اختلاف ہے۔اس بنا پر يہ ممكن ہى نہيں كہ مسلمانوں كو ايك ہى وقت ميں روزہ ركھنے پر مجبور كيا جائے، كيونكہ اس كا معنى يہ ہوا كہ ان ميں سے ايك جماعت كو چاند نظر آنے سے قبل ہى روزہ ركھنے پر مجبور كيا جائے، بلكہ چاند طلوع ہونے سے قبل ہى۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے ان لوگوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو امت کو روزے رکھنے میں متحد کرنے اور چاند کی رؤيت کو مکہ مکرمہ میں ہونے والی رؤيت پر مبنی کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا:
’’یہ بات فلکیاتی نقطۂ نظر سے ناممکن ہے، کیونکہ نئے چاند کی رؤيت مختلف ہوتی ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ اور اس میدان کے ماہر سائنس دان بھی اسی بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ جب رؤيت مختلف ہوتی ہے تو ہر ملک کے لیے اس کی اپنی شرعی حیثیت اور حکم ہوگا، جو مقامی رؤيت کی شہادت اور سائنسی حقائق دونوں پر مبنی ہوگا۔ ‘‘
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
’’تم ميں سے جو كوئى بھى ماہ رمضان پائے تو وہ اس كے روزے ركھے‘‘۔ (البقرۃ ۔۱۸۵)
اگر فرض كيا جائے كہ زمين كے آخرى كونہ ميں رہائش پذير لوگوں نے چاند نہيں ديكھا اور اہل مكہ نے چاند ديكھ ليا ہے تو اس آيت ميں ان لوگوں كو كيسے خطاب كيا جا سكتا ہے جنہوں نے چاند ديكھا ہى نہيں ؟
نیز نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: ’’چاند ديكھ كر روزہ ركھو، اور چاند ديكھ كر ہى عيد الفطر مناؤ ‘‘۔(متفق عليہ)
لہٰذا جب اہل مكہ چاند ديكھ ليں تو، مثال كے طور پر ،اہل پاكستان اور ان كے بعد مشرق ميں بسنے والے دوسرے ممالك كے لوگوں پر روزہ ركھنا كيسے لازم كريں، حالانكہ ہميں يہ علم بھى ہے كہ ان كے ہاں چاند طلوع نہيں ہوا اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے رؤيت ہلال كے ساتھ معلق كيا ہے۔
اور رہى سائنسی دلیل تو يہ ایک صحيح قياس ہے جس کی مخالفت نہیں کی جا سکتی۔ ہم جانتے ہیں كہ زمین کے مشرقى علاقوں ميں مغربى علاقوں سے قبل فجر طلوع ہوتى ہے۔ لہذا جب مشرقى علاقوں میں فجر طلوع ہو چكى ہو تو كيا ہم پر لازم ہے كہ ہم سحرى كھانا بند كرديں، حالانكہ ہمارے ہاں تو ابھى رات ہے ؟اس كا جواب نفى ميں ہے۔اسی طرح اگر مشرقی علاقوں میں سورج غروب ہو جائے لیکن ہمارے ہاں ابھی دن ہو تو کیا ہمارے لیے روزہ افطار کرنا جائز ہے؟اس كا جواب بھى نفى ميں ہے۔
نیا چاند کا معاملہ بھی بالکل سورج کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ چاند کا معاملہ ماہانہ ہے جبکہ سورج کا معاملہ روزانہ ہوتا ہے۔
جس ذات نے يہ فرمايا ہے:’’اور تم كھاتے پيتے رہو حتى كہ صبح كا سفيد دھاگہ رات كے سياہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تك روزہ پورا كرو‘‘ (البقرۃ ۔۱۸۷)اسى ذات کا يہ بھى فرمان ہے:’’ جو کوئی اس مہینے (رمضان) کو پائے، اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے۔‘‘ (البقرۃ۔۱۸۵)
لہٰذا نصوصِ شرعیہ (قرآن و سنت) اور سائنسی دلائل دونوں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ روزہ شروع کرنے اور ختم کرنے کے معاملے میں ہر علاقے کے لیے الگ حکم مقرر کیا جائے گا۔ اور یہ حکم اس ظاہری اور محسوس علامت کے ساتھ مربوط ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے اور جسے اس کے رسول محمد ﷺ نے اپنی سنت میں مقرر فرمایا ہے، یعنی چاند کی رؤيت اور سورج یا فجر کی رؤيت ۔
(ماخوذ از: فتاوى اركان الاسلام صفحہ ۔۴۵۱)
اور شيخ رحمہ اللہ تعالى نے اس قياس كى وضاحت اور مطلع كے مختلف ہونے كا اعتبار كرنے والوں كى دليل كى تائيد كرتے ہوئے كہا:وہ کہتے ہیں کہ : ماہانہ اوقات بھی روزانہ کے اوقات کی طرح ہونے چاہییں۔ جس طرح مختلف ممالک میں روزانہ روزہ شروع کرنے اور افطار کرنے کے اوقات مختلف ہوتے ہیں، اسی طرح مہینے کے روزے کے آغاز اور اختتام میں بھی اختلاف ہونا لازم ہے۔ روزانہ کے اوقات میں اختلاف ہونا مسلمانوں کے اجماع سے معروف و مسلم ہے۔ مشرق میں رہنے والے لوگ مغرب میں رہنے والوں سے پہلے روزہ شروع کرتے ہیں اور پہلے ہی افطار بھی کرتے ہیں۔
جب ہم روزانہ کے اوقات کے اعتبار سے اختلافِ رؤيت کو تسلیم کرتے ہیں، تو ہمیں ماہانہ کے اعتبار سے بھی اسے تسلیم کرنا چاہیے۔
کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیت ’’اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے فجر کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جائے، پھر رات تک روزہ پورا کرو‘‘اور نبی ﷺ کا فرمان ’’جب اس طرف سے رات آ جائے اور اس طرف سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار افطار کر لے‘‘ اپنے معنی میں عام ہیں اور دنیا کے ہر خطے کے تمام مسلمانوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔
اسی طرح آیت ’’ جو كوئى بھى تم ميں سے ماہ رمضان كو پائے تو وہ اس كے روزے ركھے‘‘اور نبی ﷺ کا فرمان’’جب تم اسے ( يعنى چاند ) كو ديكھو تو روزے ركھو اور جب اسے ديكھو تو عيد الفطر مناؤ ‘‘ بھی اسی قاعدے کے تحت ہیں۔
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، یہ رائے نہایت مضبوط ہے اور یہ قیاس بھی بالکل درست ہے: یعنی ماہانہ اوقات کا قیاس روزانہ کے اوقات پر۔
(ماخوذ از: فتاویٰ رمضان جمع و ترتيب اشرف عبد المقصود ۔۱۰۴)
اس موضوع پر کبار علماء کمیٹی نے ایک نہایت اہم بیان جاری کیا، جس کا متن درج ذیل ہے:
اول:
چاند کی رؤيت میں اختلاف ایک معروف اور مسلم حقیقت ہے اور اس بارے میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ علماء کے درمیان اصل اختلاف اس بات میں ہے کہ کیا اختلافِ رؤيت معتبر ہے یا نہیں۔
دوم:
یہ مسئلہ کہ اختلافِ رؤيت معتبر ہے یا نہیں، ایک اجتہادی (نظری) مسئلہ ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ اس معاملے میں بڑے بڑے اہلِ علم اور اہلِ تقویٰ کے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ ایسا اختلاف ہے جو قابلِ قبول ہےکیونکہ جو شخص اجتہاد کرے اور درست نتیجے تک پہنچے، اسے دو اجر ملتے ہیں۔ ایک اجتہاد کا اور دوسرا درست ہونے کا۔ اور جو اجتہاد کرے مگر غلطی کر جائے، اسے بھی اجتہاد کا اجر ملتا ہے۔
اس مسئلے میں علماء کے دو معروف اقوال ہیں:
ایک یہ کہ اختلافِ رؤيت معتبر ہےاور دوسرا یہ کہ معتبر نہیں۔ دونوں گروہ قرآن و سنت سے دلائل پیش کرتے ہیں اور بعض اوقات وہی ایک ہی نص پیش کرتے ہیں۔ جیسے دونوں فریق اس آیت سے استدلال کرتے ہیں (مفہوم):
’’لوگ آپ سے چاند كے متعلق سوال كرتے ہيں آپ كہہ ديجئے كہ يہ لوگوں ( كى عبادت ) كے وقتوں اور حج كے موسم كے وقت جاننے كے ليے ہيں‘‘ (البقرۃ ۔۱۸۹)اور نبی ﷺ کے اس فرمان سے:’’چاند ديكھ كر روزہ ركھو، اور چاند ديكھ كر ہى عيد الفطر مناؤ۔‘‘
یہ اختلاف اس وجہ سے ہے کہ نصوص کو سمجھنے کے انداز مختلف ہیں اور ہر گروہ کے دلائل اخذ کرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔
ان تمام امور کو سامنے رکھتے ہوئے جن کا مجلس نے جائزہ لیا اور اس حقیقت کی بنیاد پر کہ اس اختلافِ رائے کا کوئی ایسا منفی اثر نہیں جو ناپسندیدہ نتائج کا باعث بنےکیونکہ اسلام کو آئے ہوئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں اور ہمیں کوئی ایسا دور معلوم نہیں جس میں پوری امت چاند کی رؤيت پر متفق رہی ہو۔ کبارعلماء کمیٹی کے اراکین کی رائے ہے کہ معاملہ اسی طرح باقی رہنے دیا جائے اور اس موضوع کو غیر ضروری طور پر نہ چھیڑا جائے۔
ہر اسلامی ریاست کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے علماء کی رائے کی بنیاد پر جس قول کو چاہے اختیار کرے، کیونکہ ہر رائے کے پاس اپنے دلائل اور شواہد موجود ہیں۔
سوم:
مجلس نے فلکی حساب کے ذریعے چاند ثابت کرنے کے مسئلے کا بھی مطالعہ کیا اور قرآن و سنت میں وارد دلائل اور علماء کے اقوال کا جائزہ لیا۔ اس کے نتیجے میں مجلس نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ شرعى مسائل ميں چاند كا ثبوت ستاروں كے حساب سے معتبر نہيں ہے ،كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
’’ جب تك چاند نہ ديكھ لو روزہ نہ ركھو، اور جب تك چاند نہ ديكھ لو عيد الفطر نہ مناؤ ‘‘( الحديث)
اور اس مفہوم کی دیگر دلائل بھی موجود ہیں۔ واللہ اعلم
(ماخوذ از: فتاوىٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء (10/102)
Source: Islam QA
اہم نکات
- مختلف ممالك ميں رمضان المبارك كےآغاز میں اختلاف كے غالب اسباب چاند كے مطلع كا اختلاف ہے۔
- ’’ جب تك چاند نہ ديكھ لو روزہ نہ ركھو، اور جب تك چاند نہ ديكھ لو عيد الفطر نہ مناؤ ‘‘( الحديث)
🔗 مزید مطالعہ